Monday, January 24, 2022

کنہیا کمار اور جگنیش میوانی کی شمولیت سے کانگریس کو کتنی ملے گی تقویت؟

(ڈاکٹرصغیر احمد، ایم بی بی ایس، ایم ڈی)
غیر یقینی کا لفظ دو جگہ استعمال ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ کرکٹ کے کھیل میں اس لفظ کو کھیل کے شروع ہونے سے لے کر ختم ہونے تک استعمال کیا جاتا ہے۔ وہیں دوسری جگہ یعنی سیاست میں بھی اس کا استعمال پچھلے کچھ سالوں میں زیادہ ہونے لگا ہے۔ کرکٹ میں تو کم از کچھ مقابلوں میں غیر یقینی لفظ کو چھوڑ کر لوگ یہ بھی کہنے لگتے ہیں کہ اب کچھ رسمیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ یعنی کہ فلاں ٹیم اب فتح کے دہانے پر آگئی ہے۔ لیکن سیاست میں لفظ(غیریقینی) کا استعمال بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ابھی حال ہی میں پنجاب کی سیاست میں جس طرح کانگریس کے اعلیٰ کمان سے لے کر ریاستی سطح کے لیڈران کا ہائی وولٹیج ڈرامہ دیکھنے کو ملا یعنی وزیر اعلیٰ کی برخاستگی، پھر نئے وزیر اعلیٰ کی تقرری اور پھر سدھو کا مستعفی ہونا۔ یہ سب دیکھنے کے بعد ایسا لگا کہ اب لفظ غیر یقینی کو کرکٹ کے بجائے صرف اور صرف سیاست کے میدان میں ہی استعمال کیا جانا چاہئے۔ ابھی دو روز قبل کانگریس کے بالائے خانہ سے ایک اور خبر سامنے آئی کہ ملک کے دو قدآور نوجوان لیڈر کنہیا کمار اور جگنیش میوانی کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس خبر کے بعد پنجاب کی سیاستی گرماہٹ اور ہلچل میں قدرے قرار آیا۔ اب لوگوں نے کانگریس کے ذریعہ پنجاب میں لئے گئے جلدبازی والے فیصلوں کے بجائے ان دو نوجواں سال لیڈران کی کانگریس میں شمولیت کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ ان میں سے ایک کا تعلق بہار سے ہے تو دوسرے کا تعلق گجرات سے ۔ دونوں بے باک نوجوان لیڈر ہیں۔ حکومت کے خلاف بولنا ان کا امتیاز مانا جاتا ہے۔
گجرات کے وڈگام سے آزاد رکن اسمبلی جگنیش میوانی کا تعلق گجرات سے ہے۔ ان کا خاصہ ہے کہ دلتوں کے حق کے لئے تحریکیں چلاتے ہیں، دلتوں کی غصب شدہ زمینوں کی بازیابی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ ۲۰۱۷ میں انہوں نے آزاد امیدوار کے طوپر فتح حاصل کر گجرات اسمبلی میں قدم رکھا۔ انتخابی تشہیر کے دوران انہوں نے پس پردہ کانگریش کی حمایت کی۔ اور بلا شبہ جگنیش کی حمایت کا کانگریش کو فائدہ بھی ملا۔ ایک متحرک اور بے باک لیڈر کی شبیہہ ان کی رہی ہے۔
وہیں بہار سے تعلق رکھنے والے کنہیا کمار ملک کی مشہور یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا یونین کے صدر رہ چکے ہیں اور گذشتہ پارلیمانی انتخاب میں سی پی آئی کی ٹکٹ پر بہا کے بیگوسرائے سیٹ سے انتخاب لڑے تھے لیکن بی جے پی کے گری راج نے انہیں شکست دے دی۔ کنہیا کمار پچھلے سال شہریت ترمیمی بل کے خلاف ملک میں جاری احتجاجوں اور جلوسو ں میں پہنچ کر اس قانون کے خلاف تقریریں کیں۔ لوگوں کو ان کی تقریریں پسند آئی۔ بہار سمیت ملک کے دیگر احتجاجی جلسہ گاہوں کے ایک ایک فرد نے انہیں ان کے نام اور شکل سے پہچان لیا۔ اس دوران شہریت بل کے مخالفین میں ان کی خوب تعریفیں بھی ہوئیں۔ ویسے تو کنہیا کمار اس وقت سے ہی ملکی سطح پر مشہور ہوگئے تھے جب جے این یو میں طلبا یونین نے حکومت کے خلاف ہنگامہ آرائی کی تھی اس وقت کنہیا کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی تھی لیکن ان کے لئے جیل جانا خوش آئند ثابت ہوا اور ملک بھر میں شہرت مل گئی۔
یہ بات بلا شبہ تسلیم کئے جانے کے لائق ہے کہ کانگریس کو ان دونوں نوجوان لیڈران کی آمد سے تقویت ملی ہے اور ملے گی۔ لیکن اس تقویت کی نوعیت کیا ہوگی، کیا پارلیمانی انتخاب میں یہ دونوں لیڈران ملک بھر میں کانگریس کو مضبوط بناسکیں گے یا پھر کنہیا کمار کے بل بوتے کانگریس بہار میں بہتر مظاہرہ کرسکے گی۔ یا گجرات کے آئندہ اسمبلی انتخاب میں جگنیش کے چہرے کو سامنے رکھ کر عوام الناس کو اپنے پالے میں کرنے میں کانگریس کامیاب ہوپائے گی۔ یا پھر صرف بطور نام تشہیری طورپر ان دونوں کے ساتھ کا فائدہ ملے گا۔ یعنی بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک لیڈر ملک بھر میں مشہور تو ہوتا ہے لیکن عوام پر اس کی گرفت نہیں ہوتی یا اگر ہوتی بھی ہے تو ایک خاص طبقہ پر محدود انداز میں ہوتی ہے۔ اس کی مثال مرحوم رام بلاس پاسوان سمیت دیگر کئی لیڈران ہیں۔
کنہیا کمار کے ضمن میں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ان کا تعلق بھومی ہار سماج سے ہے۔ اور آج ان کے سماج کا اکثروبیشتر حصہ بھاجپا کا حمایتی ہے۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ماضی میں کانگریس کی مضبوط کڑی اسی سماج کے لوگ تھے۔ فی الحال بھومی ہار سماج کو کانگریس سے جوڑنا کنہیا کمار کے لئے مشکل امر ہے۔ ہاں یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ اس سماج سے جولوگ بھاجپا سے خفا ہوں گے انہیں دوسری طرف جانے سے کنہیا کمار ضرور روک لیں گے۔ ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے۔ بہار کے عام ہندووں کو لبھانے میں کنہیا کمار موجودہ صورت حال کی بنیاد پر کوئی خاص رول ادا نہیں کرپائیں گے۔ ہاں سیاست میں غیر یقینی بھی تو ہے۔ اس لحاظ سے ہوسکتا ہے کہ کنہیا کچھ بہتر کر پائیں۔ بہار کے باہر یوپی وغیرہ میں بھی ہوسکتا ہے کہ کنہیا کچھ رول ادا کر دیں۔ بہر حال کنہیا کمار کے آنے سے ظاہری طورپر ہی سہی کانگریس کو تقویت تو ملی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اب کنہیا کی ذمہ داری ہے کہ اس ظاہری تقویت کو باطنی تقویت میں کس طرح تبدیل کرپاتے ہیں۔ ان کے اندر بولنے کی صلاحیت ہے عوام کو مرعوب کرنا ان کے لئے آسان ہوتا ہے۔ دوسری سب سے بڑی بات کہ نوجوان چاہے جس مذہب کا ہو کنہیا پر اعتماد کرتا ہے اب ان نوجوانوں کو کانگریس کے لئے کتنا مضبوط بنا پاتے ہیں یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
دوسری جانب جگنیش میوانی ہیں ان کی شبیہہ بھی صاف ستھری ہے، گجرات کے سابقہ انتخاب کے تناظ میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کی گرفت ٹھیک ٹھاک ہے۔ اب گجرات سے باہر وہ پارٹی کو کتنا مضبوطی دلاتے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
منجملہ طورپر یہ بات صحیح ہے کہ ان دونوں کے آنے سے کانگریس کو کم ہی سہی تقویت تو ملی ہے۔ اب کانگریس ان دونوں سے پارٹی کے تئیں کس طرح خدمات لیتی ہے یہ کانگریس پر منحصر ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

7,268FansLike
9FollowersFollow

Latest Articles