Monday, January 24, 2022

پنجاب کے اقتدار کے تئیں کانگریس کا رویہ کتنا مفید کتنا مضر؟

ڈاکٹر صغیر احمد(ایم بی بی ایس، ایم ڈی)
گذشتہ دنوں پنجاب میں وزیر کی تبدیلی کے رویہ کو لے کر ملکی سطح پر کانگریس کی سیاست موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے استعفیٰ اور چرن جیت سنگھ چنی کے وزیر اعلیٰ بننے کے تمام معاملے کو کچھ سیاسی ماہرین کانگریس کے لئے مضر گردان رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اسی سال پنجاب میں انتخاب ہونے ہیں۔ ایسے میں انتخاب سے قبل وزیر اعلیٰ کا مستعفی ہونا پہلی نظر میں کسی بھی پارٹی کے لئے اس ریاست کی سیاست میں ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ وہیں کانگریس کا نظریہ یہ واضح کررہا ہے کہ اس نے پنجاب میں کیپٹن کی جگہ دلت وزیر اعلیٰ بناکر دلتوں کو رجھانے کا کام کیا ہے، اور وہ دلت آنے والے انتخاب میں کانگریس کے معاون ہوں گے۔ اب یہ تو تضاد نظریے ہیں جن میں تطبیق کی صورت نکالنا کسی بھی سیاسی ماہرین کے لئے بہر کیف مشکل امر ہے۔
کانگریس کے اس عمل کے فائدہ نقصان کا تخمینہ لگانے سے قبل اس بات کی اور توجہ مبذول ہونی چاہئے کہ کیا وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا یہ فیصلہ صرف کانگریس کے اعلیٰ کمان کا ہے؟ کیا امریندر سنگھ نے اعلیٰ کمان کو اتنا ناراض کردیا کہ مجبوراً انہیں مستعفی ہونا پڑا؟ یا پھر کانگریس میں شامل کسی اور فرد واحد نے اس داستان کا پلاٹ تیار کیا اور ایسے تانے بانے بنے کہ اعلیٰ کمان کیپٹن امریندر سنگھ سے برگشتہ ہوگیا اور ان کی جگہ ایک غیر معروف شخص کو وزارت عالیہ کا مسند نعمت غیر مترقبہ کی شکل میں مل گیا؟۔
یہ بات کم از کم پورا بھارت جانتا ہے کہ رواں سال جب نوجوت سنگھ سدھو کو کانگریس کی جانب سے پنجاب کا صدر منتخب کیا گیا اس وقت کیا پنجاب میں کیا سیاسی ڈرامہ ہوا، ایک طرف ریاست کے پارٹی کی صدارتی تقریب تھی اور دوسری طرف ریاست کے وزیر اعلیٰ کی ناچاقی۔ بہر کیف بادل ناخواستہ سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن اس تقریب میں پہنچے۔ لیکن سدھو اور کیپٹن میں ایک کھائی بنتی گئی اور وہ کھائی اتنی گہری ہوتی گئی کہ اسے پاٹنا مشکل ہوگیا۔ سوال یہ اٹھتاہےکہ کیا کسی ریاست میں جہاں پارٹی اقتدار میں ہو وہاں ریاستی صدر منتخب کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس ریاست میں اندرونی خلفشار پیدا ہو؟ ریاستی صدر اور وزیر اعلیٰ کے بیچ آخر اتنی دوریاں کیسے پیدا ہوگئیں اور پارٹی کے اعلیٰ کمان نے اس خلش کو دور کیوں نہیں کیا؟ یاپھر سدھو نے وزارت عالیہ کی کرسی پرقابض ہونے کے لئے کانگریس اعلیٰ کمان کو گمراہ کیا؟ کیونکہ سدھو سے قبل تو کبھی بھی ایسا نہیں لگا کہ کانگریس کا اعلیٰ کمان کیپٹن سے ناراض ہو۔ یکایک سدھو کے آنے سے کیپٹن اتنے برے معلوم پڑنے لگے کہ انہیں کرسی سے ہٹا دیا گیا۔ اس بات کی تصدیق تاریخ کے ان اوراق سے ہوتی ہے جس میں یہ درج ہے کہ کیپٹن اور سدھو کے درمیان کبھی بھی داخلی اتحاد نہیں رہا۔ دونوں ماضی سے ہی ایک دوسرے کے رقیب ہیں۔ لیکن سیاست میں انفرادی رقابت الگ ہے اور پارٹی کا مفاد بنیادی فریضہ۔ اس پورے ڈرامے سے ایسا لگتا ہے کہ نوجوت سنگھ سدھو نے کیپٹن سے اپنی رقابت کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ایک سوال اب بھی باقی ہے جس کا جواب فی الوقت دینا شاید نا انصافی ہو کہ کیا کیپٹن واقعی بحیثت وزیر اعلیٰ کانگریس کے لئے اب مفید نہیں رہ گئے تھے؟ اس سوال کے جواب کے لئے پنجاب کے آئندہ انتخابات کے نتائج انتظار کرنا ہوگا کیونکہ انتخاب ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ کیپٹن مفید تھے یا نہیں۔
اب اس جاب رخ کرتے ہوئے کانگریس کے دلت کو رجھانے والے فیصلے کا مختصر تجزیہ کرنا ہوگا، جسے لے کر کانگریس خوش فہمی کی شکار ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ۳۲بتیس فیصد دلت آبادی ہے۔ جسے دھیان میں رکھ کر چننی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور رہنا چاہئے کہ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی بھی دلتوں کی لیڈر ہیں لیکن آج تک مایاوتی کو پنجابی عوام نے دلت سمجھ کر حمایت نہیں دیا۔ تو پھر کانگریس کے اس زعم کی کا نتیجہ کیا ہوگا یہ مخفی نہیں ہے۔ وہیں موجودہ وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کے سابقہ سیاسی حالات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ جس میں یہ پایا گیا ہے کہ چنی متنازع سیاسی شخصیت کے حامل ہیں۔ ایک خاتون افسر کو فحش پیغام بھیجنا بھی ان کے سیاسی کردار کا ایک پہلو ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت کیا ہے۔
وہیں کیپٹن امریندر سنگھ کی سیاسی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بھلے ہی سدھو کے سامنے کیپٹن ملکی سطح پر مشہور نہ ہوں لیکن سدھو کی شخصیت کے بالمقابل کیپٹن کی شخصیت میں سنجیدگی اور مطانت جھلکتی ہے۔ سدھو بحیثیت کرکیٹر اور بحیثیت مزاحیہ فنکار بھلے ہی ملک بھر میں مشہور ہوں لیکن سیاسی سنجیدگی کا فقدان ہے۔
پنجاب میں کیپٹن کے حمایتی کا کانگریس کے اس فیصلے سے خوش ہوں گے؟ ایسا لگتا نہیں ہے۔ ہاں جو لوگ کیپٹن سے برداشتہ ہوں گے انہیں تو کانگریس کا یہ فیصلہ بھلا معلوم ہوگا لیکن ایسے لوگوں کی تعداد شاید کم ہو کیونکہ گزشتہ انتخاب میں کیپٹن کی زیر قیادت پنجاب میں کانگریس کو ۷۷ سیٹوں کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کیپٹن کی سیاسی شخصیت متاثرکن ہے۔
آج جس طرح سے کیپٹن سدھو کے خلاف بغاوتی بیانات شائع کررہے ہیں اس کو دیکھتے کیا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آنے والے انتخابات میں سدھو اور کیپٹن میں اتحاد ہوگا قعطی نہیں! اور جب ریاست کے صدر اور حالیہ مستعفی وزیر اعلیٰ کے درمیان اتنی خلش ہوگی تو انتخاب میں کامیابی ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب پنجاب کی عوام دے گی کہ کانگریس کا یہ فیصلہ پارٹی کے لئے مفید ہے یا مضر؟۔
لیکن انتخاب سے عین قبل کسی ریاست میں اتنی بڑی سیاسی تبدیلی کسی بھی پارٹی کے لئے مفید نہیں رہی ہے۔ خاص طورسے ان حالات میں جب وہ پارٹی مرکز کے اقتدار سے دورہو۔ کیونکہ اگر مرکز میں قابض پارٹی ریاستی سطح پر کچھ بڑے فیصلے لیتی ہے خواہ وہ حالات کے حساب سے غیر موژوں ہی کیوں نہ ہوں اس کا بہت زیادہ گہرا اثر اس پارٹی پر نہیں پڑتا۔ کیونکہ اپنی پارٹی کے لیڈران کی بغاوت کا منفی اثرکم از کم اس پارٹی پر اس وقت تک اثر انداز نہیں ہوتا جب تک وہ مرکز ی اقتدار پر قابض رہےگی۔ جوکہ کانگریس نہیں ہے۔ ایسے حالات میں کانگریس کا یہ فیصلہ مفید کم اور مضر زیادہ ثابت ہوسکتا ہے۔
مستعفی ہونے کے بعد سے لگاتار کیپٹن سدھو کے مخالف بیانات دے رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ شاید ابھی پنجاب کی سیاست میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا ہے۔ اگر کیپٹن کے بیانات کا یہی سلسلہ جاری رہا تو کانگریس کے لئے خوش آئند نہیں ہوگا۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

7,268FansLike
9FollowersFollow

Latest Articles