Tuesday, August 9, 2022

ڈھاکہ بلاک کے پنچایتوں کا انتخاب: ایک تجزیہ

(تر ہت نیوز ڈیسک)
ڈھاکہ بلاک کے تمام پنچایتوں میں ۲۰؍اکتوبر کو پنچایتی راج کے لئے انتخابات ہونا ہے۔ ڈھاکہ حلقہ میں ۳۲؍پنچایت ہیں جس میں مکھیا، سمیتی، سرپنچ، وارڈ سمیت ضلع پریشد کے لئے سیکڑوں امیدوار طبع آمائی کررہے ہیں۔ ہر ایک پنچایت میں اس بار گہما گہمی شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ہر امیدوار اپنی فتح کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر حربے اور ہتکھنڈے استعمال کررہا ہے۔ من جملہ طورپر مذکورہ ۳۲؍ پنچایتوں میں دونوں مذاہب کے ووٹروں کی تعداد کا تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ پچاس پچاس فیصد دونوں فریق کے ووٹروں کی تعداد ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی ہندو اکثریتی پنچایت ہے تو کوئی مسلم اکثریت والا ہے۔
ڈھاکہ بلاک میں گہئی، کرسہیا، جھوآرام، گوندری، کھڑوہا چین پور، جٹولیا، تیلہرا کلاں، گرہنوا، بلوآ گوآباری، پھلوریا، بڑہروا فتح محمد، چندنبارہ، پنڈری، کرماوا، ملکونیا، جموآ، برہروا سیون، بڑہروا لکھن سین ، دلپت وشنپور، پچپکڑی، جھٹکاہی، بھنڈار اوربھگوان پور کل ۲۳ پنچایت ہیں۔ اب ان پنچایتوں میں رائ دہندگان کی اکثریت کس امیدوار پر اعتماد کرتے ہیں، کسے اپنی حمایت اور اپنا قیمتی ووٹ دیتے ہیں۔ یہ تو نتیجے سے قبل کہہ پانا مشکل ہے۔ کیونکہ رکن اسمبلی اور رکن پارلیامنٹ کے انتخاب میں رائے دہندگان کا موڈ اور ان کی منشا جاننا اب آسان ہے لیکن پنچایتی انتخابات میں کسی رائے دہندہ کے مزاج کا مکمل اندازہ لگانا مشکل امر ہے۔ ہر ایک ووٹر بڑی چالاکی سے اپنے آپ کوباطنی طورپر پوشیدہ رکھتا ہے۔ بسا اوقات پنچایتی انتخابات میں تجزیہ نگاران بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ البتہ ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ کس پنچایت میں لڑائی یک طرفہ، دو رخی یا سہ رخی ہے۔ فلاں دو یا تین لوگ لڑائی میں ہیں، یا انہیں دو یا تین لوگوں میں سے کوئی ایک بازی مار سکتا ہے اس کا اندازہ اگر باریکی سے کوشش کریں تو بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
کس پنچایت میں اس بار تبدیلی ہوگی، یا نہیں نہیں ہوگی یہ اندازہ بھی تقریباً انتخاب سے ایک دو روز قبل لگ جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مکمل وثوق کے ساتھ کوئی بھی تجزیہ نگار کسی کی کامیابی یا ناکامی کا حتمی دعوی نہیں کرسکتا۔
تخمینہ کے عینک سے دیکھا جائے تو گہئی، میں مکھیا عہدہ کے لئے اس بار تبدیلی کے آثار نظر آرہے ہیں، کرسہیا پنچایت بھی اسی زمرے میں ہے یہاں بھی لڑائی میں دو امیدوار ہی مضبوط دکھ رہے ہیں۔ گوندری میں لوگ تبدیلی کے خواہاں دکھائی دے رہے ہیں۔ کھڑوا چین پور میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ جٹولیا میں لڑائی کا دورخی پہلو سامنے آرہا ہے۔ تیلہرا کلاں میں لڑائی سہ رخی بنی ہوئی ہے۔ گرہنوا میں بھی بہت حد تک یہ مانا جارہا ہے کہ لڑائی سہ رخی موڑ پر ہے۔ بلوا گوآباری کی لڑائی میں دودن قبل تک تین امیدوا کی دھمک تھی لیکن اب وہاں بھی دورخی ہے اور تبدیلی کے بڑے آثار دکھ رہے ہیں۔ پھلوریا میں تبدیلی کے آثار تو نہیں لیکن لڑائی کا رخ کڑا ہے۔ بڑہروا فتح محمد میں بھی تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے۔ چندن بارہ میں لڑائی سہ رخی بنی ہوئی ہے۔ پنڈری میں تبدیلی کی کڑی ہوا چل رہی ہے۔ اس پنچایت میں سابق مکھیا کا انتخاب سے بہت قبل ہی انتقال ہوچکا ہے ان کے وارثین کو جو ہمدردی ملنی چاہئے وہ ابھی تک نہیں مل پا رہی ہے۔ کرماوا میں لڑائی دو رخی ہے۔ ملکونیا میں بھی بدلاؤ کے امکان ہیں۔ جموآ میں تبدیلی کے پختہ آثار دکھ رہے ہیں۔ دلپت وشنپور کی عوام اپنے سابقہ مکھیا سے ناراض ہے۔ بڑہروا لکھن سین میں تبدیلی کے آثار ندارد ہیں۔ بڑہروا سیون کی جنتا چپی سادھے ہوئی ہے۔ پچپکڑی میں اونٹ دوخانوں میں سے کسی میں بیٹھ سکتا ہے۔ جھٹکاہی میں تبدیلی کی ہوا صاف نظر آرہی ہے۔ بھنڈار میں تبدیلی کی کوئی لہر نہیں پائی جارہی ہے۔ بھگوان پور میں تبدیلی کی مضبوط لہر دوڑ پڑی ہے۔ یہ رہا مکھیا عہدہ کے لئے ان تمام پنچایتوں کا ایک سرسری خاکہ۔
ڈھاکہ بلاک کے تحت ضلع پریشد کے ۴۸، ۴۹ اور ۵۰تین حلقے آتے ہیں۔ ان تینوں حلقوں میں دیکھا جائے تو محض ایک ایسا حلقہ ہے جس میں تبدیلی کے آثار نہیں ہے۔ وہ ہے حلقہ ۴۸ اڑتالیس باقی ۴۹ انن چاس اور ۵۰ پچاس میں اس بار تبدیلی کے پختہ آثار ہیں۔ انچاس میں لڑائی دو رخی ہے۔ جب کہ پچاس کا بھی وہی حال ہے۔
اس سے قطع نظر اگر ایمانداری سے کل ۲۳ پنچایتوں میں ترقی کے نظریے سے اگر دیکھا جائے تو پچھلے پانچ سالوں میں میں کسی بھی مکھیا نے تسلی ترقیاتی کام نہیں کیا ہے۔ بلکہ اکثر پنچایتو ں ترقی لفظ اپنی بے بسی کے آنسو بہا رہا ہے۔ لیکن پنچایت انتخاب میں دل، بل، چانکیہ سوچ اور جھوٹے وعدے اور معافی تلافی کا دور بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ لوگ ذات پات برادری کے خانوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں اور پھر پانچ سال تک اپنے ان لمحات کو کوستے رہتے ہیں کہ کاش! میں نے فلاں کو ووٹ نہیں دیا ہوتا۔ ان ووٹروں سے گذارش ہے کہ آپ کا ووٹ بڑا قیمتی ہے پنچایتی سرکار کی معماری میں آپ کے ایک لمحے کے شعور والا فیصلہ اس پنچایتی سرکار کو بنانے میں بڑا اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ اس ایک لمحے میں ذرا ذات پات نسل، برادری اور مذہب سے اوپر اٹھ کر اس بات کے لئے سوچیں کہ حقیقی معنوں میں آپ کے پنچایتی سرکا کے لئے کون سا امیدوار زیادہ موزوں ہے؟ بس اسی سوچ کے تحت اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔

Related Articles

Stay Connected

7,268FansLike
9FollowersFollow

Latest Articles